دو نئی تعیناتیوں کے بعد الیکشن کمیشن کے اراکین کی تعداد مکمل

دو نئی تعیناتیوں کے بعد الیکشن کمیشن کے اراکین کی تعداد مکمل
10 ماہ سے زائد کی تاخیر کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) میں دو تعیناتیوں سے اراکین کی تعداد مکمل ہوگئی۔


رپورٹ کے مطابق صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے بابر حسن بھروانہ اور ریٹائرڈ جسٹس اکرام خان کو بالترتیب پنجاب اور خیبرپختونخوا سے الیکشن کمیشن کے اراکین کے طور پر تعینات کیا ہے۔
صدر کی جانب سے یہ تعیناتی آئین کے آرٹیکل 218 (2) (بی) کے تحت وزیر اعظم کے مشورے پر کی گئی ہے۔
آئین کے تحت ای سی پی الیکشن کمشنر اور 4 اراکین پر مشتمل ہوتا ہے، ان اراکین میں ہر صوبے کا ایک ایک رکن شامل کیا جاتا ہے۔
سابق جسٹس الطاف ابراہیم قریشی (پنجاب کے رکن) اور ریٹائرڈ جسٹس ارشد قیصر (خیبرپختونخوا کے رکن) کی ریٹائرمنٹ کے بعد الیکشن کمیشن میں 26 جولائی 2021 سے دو پوزیشنز خالی ہیں۔
قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں سندھ اور بلوچستان سے اراکین کی تعیناتی کا مسئلہ تقریباً ایک سال تک تعیناتی کا شکار رہا تھا۔
یہ مرحلہ اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان اور قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف میں بالواسطہ مشاورت کی وجہ سے نشان زد ہوا تھا اور پارلیمانی کمیٹی مسئلے پر کوئی بھی فیصلہ دینے میں ناکام رہی تھی کیونکہ دونوں فریقین نے علیحدہ علیحدہ فہرستیں بھیجی تھی۔
دوسری تنازع الیکشن کمیشن کے دو اراکین سے متعلق حکومت کی جانب سے جاری کردہ یکطرفہ اعلامیہ تھا جس پر اس وقت کے چیف الیکشن کمشنر ریٹائرڈ جسٹس سردار رضا نے حلف لینے سے انکار کردیا تھا۔
پنجاب سے تعینات ہونے والے الیکشن کمیشن کے رکن بابر حسن بھروانہ نے پنجاب حکومت میں بطور سیکریٹری جنگلات، جنگلی حیات، بحری حیات اور سیکریٹری آب پاشی خدمات انجام دی ہیں۔
اگست 2007 سے مئی 2008 تک انہوں نے بطور ڈائریکٹر جنرل برائے بلدیاتی حکومت اور کمیونٹی ڈیولپمنٹ خدمات انجام دیں۔
انہوں نے محکمہ توانائی و ماحولیات، آب پاشی اور محکمہ داخلہ میں بطور ایڈیشنل سیکریٹری کام کیا جبکہ بابر حسن بھروانہ وہاڑی کے ضلعی روابط افسر بھی رہے۔
خیبر پختونخوا سے تعینات ہونے والے رکن ریٹائرڈ جسٹس اکرام اللہ کا تعلق سوات سے ہے، انہوں گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ جہانزیب کالج سیدو شریف سے تعلیم حاصل کی جبکہ اپنے ایل ایل بی کی ڈگری 1988 میں سندھ مسلم لا کالج کراچی سے لی۔
وہ 17 اپریل 2008 سے 31 اکتوبر 2009 تک ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل رہے جبکہ پشاور ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہوئے دسمبر 2020 میں ریٹائر ہوئے۔