گوگل کی جانب سے ذاتی آواز کی شناخت کا فیچر متعارف کرائے جانے کا امکان

گوگل کی جانب سے ذاتی آواز کی شناخت کا فیچر متعارف کرائے جانے کا امکان
بولنے یا آواز کے ذریعے گوگل پر چیزوں کو تلاش کرنا تو اب کوئی نئی بات نہیں، تاہم خبریں ہیں کہ جلد ہی گوگل ذاتی آواز کی شناخت کا فیچر متعارف کرائے گا۔


جی ہاں، خبریں ہیں کہ گوگل اپنی ایپ ’گوگل اسسٹنٹ‘ یا جسے ہم ’ہائےگوگل‘ بھی کہتے ہیں، اسے مزید بہتر بناتے ہوئے کسی بھی شخص کی ذاتی آواز یا تقریر کو شناخت کرنے کے فیچر پر کام کر رہا ہے۔
نائن ٹو فائیو گوگل کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ فیچر کے تحت ابتدائی طور پر صارف کی آواز یا تقریریں ڈیٹا کی طرح محفوظ کی جائیں گی اور گوگل کا مصنوعی ذہانت کا سسٹم مذکورہ آواز کی شناخت کا کام شروع کردے گا۔
کسی بھی صارف کی جانب سے سے کی جانب والی بات کو ’گوگل اسسٹنٹ‘ مختلف حصوں میں تقسیم کرے گا اور مصنوعی ذہانت کے تحت یہ بھی پتہ لگایا جائے گا کہ کون سا شخص کس طرح کے الفاظ یا جملے زیادہ بولتا ہے اور پھر مستقبل میں گوگل اسسٹنٹ دوسری ایپس کے تحت کسی بھی صارف کے پاس آنے والے وائس میسیجز کو سننے کے بعد بولنے والے شخص کا نام بھی بتا دے گا۔
ابھی یہ مکمل واضح نہیں ہے کہ مذکورہ فیچر کے تحت گوگل کس طرح کی آسانیاں پیدا کرنے کا خواہاں ہے، تاہم امکان ہے کہ کسی بھی صارف کی ذاتی آواز کی شناخت کے فیچر کو جلد متعارف کرادیا جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق مذکورہ فیچر ہر صارف کے فون پر اس وقت ہی کام کرے گا جب کہ صارف ’گوگل اسسٹنٹ‘ یا ’ہائے گوگل‘ میں سیٹنگ تبدیل کرکے سسٹم کو اپنی آواز ریکارڈ کرنے کی اجازت دے گا۔
اجازت ملنے کے بعد گوگل کا سسٹم ممکنہ طور پر موبائل فون کے سامنے بولنے والی کسی بھی صارف کی تمام گفتگو کو ریکارڈ کرکے اسے جمع کرے گا اور صارف کو یہ بھی حق دیا جائے گا کہ وہ چاہے تو اپنا پورا ڈیٹا ڈیلیٹ کردے۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ پرائیویسی معاملات کی وجہ سے گوگل کے مذکورہ فیچر کو دنیا بھر میں تنقید کا سامنا ہوگا۔