’منکی پاکس‘ کے ’وبا‘ میں تبدیل ہونے کے امکانات نہیں، عالمی ادارہ صحت

’منکی پاکس‘ کے ’وبا‘ میں تبدیل ہونے کے امکانات نہیں، عالمی ادارہ صحت
عالمی ادارہ صحت نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ اب بھی ’منکی پاکس‘ سے متعلق بہت ساری معلومات دستیاب نہیں ہے، تاہم اس بات کے کوئی امکانات نہیں کہ مذکورہ بیماری ’وبا‘ میں تبدیل ہوگی۔


’منکی پاکس‘ میں حالیہ تیزی رواں ماہ مئی سے دیکھی گئی، جب پہلی بار برطانیہ میں کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔
گزشتہ ایک ماہ کے دوران ’منکی پاکس‘ کے کیسز یورپ کے ڈیڑھ درجن سے زائد ممالک سمیت امریکا اور مشرق وسطیٰ کے ممالک میں بھی رپورٹ ہو چکے ہیں۔
’منکی پاکس‘ 30 مئی تک دنیا کے 25 سے زائد ممالک میں پھیل چکا تھا اور اس کے 250 کیسز رپورٹ ہو چکے تھے، تاہم تاحال اس سے کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی۔
عالمی ادارہ صحت نے پہلی ہی واضح کیا تھا کہ ’منکی پاکس‘ ابھی بے قابو نہیں ہوا اور نہ ہی اس کے کورونا کی طرح پھیلنے کے امکانات ہیں۔
اور اب ڈبلیو ایچ او کی ’منکی پاکس‘ پر نظر رکھنے والی اعلیٰ سائنسدان نے کہا ہے کہ مذکورہ بیماری کے وبا بننے کے امکانات نہیں ہیں۔
خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) کے مطابق عالمی ادارہ صحت کی ’منکی پاکس‘ ایکسپرٹ ڈاکٹر روسامند لیوس نے 30 مئی کو ہونے والی ایک تقریب میں کہا کہ یہ سچ ہے کہ ابھی تک ’منکی پاکس‘ سے متعلق زیادہ معلومات دستیاب نہیں، تاہم اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ مذکورہ بیماری وبا میں تبدیل ہو۔
انہوں نے کہا کہ اب تک کے شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ منکی پاکس ہم جنس پرستی کی جانب راغب افراد کے درمیان قریبی روابط یا ایک دوسرے کا لباس اور دوسرے کپڑے استعمال کرنے والے افراد کو متاثر کر رہا ہے۔
ڈاکٹر روسامند لیوس نے کہا کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ بر اعظم افریقہ کے باہر منکی پاکس کیوں پھیل رہا ہے، تاہم ممکنہ طور پر یہ 1980 کے بعد ممالک کی جانب سے چیچک کی ویکسینیشن بند کرنے کی وجہ سے سر اٹھا رہا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ماہرین تحقیق کریں کہ منکی پاکس کے حالیہ کیسز کیسے اور کیوں پھیل رہے ہیں؟ کیا یہ واقعی ہم جنس پرستی اور جسمانی تعلقات کی وجہ سے پھیل رہے ہیں؟
ان کے مطابق ابھی تک کی معلومات اور کیسز سے معلوم ہوتا ہے کہ منکی پاکس سے عام آبادی کو کوئی خطرہ نہیں، یہ صرف خاص افراد کو نشانہ بنا رہا ہے۔
خیال رہے کہ منکی پاکس ابتدائی طور پر بندروں میں پائی جانی والی بیماری تھی جو 1970 کے بعد افریقہ کے مغربی حصے میں پھیلی اور کئی دہائیوں تک وہیں پھیلتی رہی۔