وزیر اعلیٰ سندھ کا پنجاب کی طرز پر ریسکیو 1122 کا افتتاح

وزیر اعلیٰ سندھ کا پنجاب کی طرز پر ریسکیو 1122 کا افتتاح
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی کے لیے 50 ایمبولینسز پر مشتمل ریسکیو سروس 1122 کا افتتاح کردیا جس کی چابی ورلڈ بینک کے ڈائریکٹر نے وزیر اعلیٰ کو پیش کردی۔


سندھ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کی طرف سے اسپورٹس کمپلیکس میں ریسکیو سروس کے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم اپنی مدت پوری ہونے سے قبل تمام ریسکیو سروسز کو آپریشنل بنا دیں گے اور صوبے بھر میں ریسکیو سروس قائم کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ جب ہم عوامی مارچ پر نکلے تھے تو ہم نے پنجاب کی ریسکیو سروس دیکھی جو بہت اچھے طریقے سے خدمات سرانجام دے رہی تھی اور ہمیں امید ہے کہ پنجاب ہماری بھی مدد کرے گا تاکہ ہم بھی اپنے صوبے کے لوگوں کو ایسی سروس فراہم کریں۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ ہمارے پاس 230 ایمبولینسز ہیں، پہلے مرحلے میں کراچی ڈویژن کو ایمبولینسز دی جائیں گی، دوسرے مرحلے میں صوبے کے دیگر ڈویژنوں اور اضلاع میں ایمبولینسز چلائی جائیں گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ میں نئی ایمبولینس سروس کے آغاز سے بہت خوشی ہوئی ہے، جدید ترین ریسکیو 1122 سروس کا قیام سندھ کی ترقی کی جانب پہلا قدم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے سندھ میں ٹراما سینٹر کی اسکیم بھی دی ہے جس کو جلد از جلد مکمل کیا جائے گا۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ہم سندھ کی اہم شاہراہوں پر ہر 50 کلومیٹر کے فاصلے پر ریسکیو سروس قائم کریں، پہلے ہمارے پاس ایک قومی شاہراہ تھی مگر اب ہر ضلع میں جانے کے لیے اچھی سڑکیں بنائی گئی ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کہ وجہ سے سندھ گرم ترین ہو گیا ہے اور اپریل کا مہینہ سب سے زیادہ گرم ترین ثابت ہوا تھا۔
انہوں نے کہا کہ 2010 کے بعد ہمیں سنگین خشک سالی کا سامنا ہے اور موجودہ وقت میں پانی کی شدید قلت کی وجہ سے زراعت بھی بڑے پیمانے پر متاثر ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2015 میں زلزلے کے بعد سندھ اسمبلی نے ضلعی سطح تک ڈیزاسٹر منیجمنٹ پر قانون سازی کی تھی، انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں موسمیاتی تبدیلی جیسے خطرات کا سامنا ہے اور ہمیں امید ہے کہ عالمی بینک اس سے نمٹنے میں ہماری مدد کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ موسمیاتی تبدیلیوں، قدرتی آفات اور دیگر خطرات نبردآزما ہے، گزشتہ کچھ برس سے قدرتی آفات کے باعث کافی ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں جبکہ صوبے میں وبائی امراض ،گرمی کی لہر، سیلاب، خشک سالی ، آگ اوردھماکوں کے متعدد حادثات ہوئے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ چاہے ہمارے ٹرانسپورٹ کے مسائل ہوں، زراعت ہو، قدرتی آفات ہوں یا کراچی کے منصوبے ہوں اس میں عالمی بینک نے مدد کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایمبولینس سروس کو مزید بڑھائیں گے جس میں فائر بریگیڈ اور پولیس ایمرجنسی سروس بھی شامل ہوں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ کراچی میں بہت سے مسائل ہیں، ہم نے دیہی علاقوں میں بھی مسائل حل کیے ہیں، سول ہسپتال کراچی کے قریب ہم نے بہت بڑا ٹراما سینٹر بنایا ہے جس میں بلوچستان سے بھی لوگ آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کو بڑھتی آبادی ، قدرتی آفات اور کورونا جیسی وبائی ا مراض کا سامنہ ہے ،ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔
’آئی جی سندھ کو ہٹانے کا عدالتی حکم نامناسب تھا‘
سندھ ہائی کورٹ کی طرف سے آئی جی سندھ کو کام کرنے سے روکنے سے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم نے نئے آئی جی کی تعیناتی تک وقتی طور پر آئی جی سندھ کا تقرر کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ عدالت کے احکامات قبول ہیں مگر یہ نامناسب حکم تھا، کراچی میں بچیوں کی گمشدگی کے دو واقعات ہوئے ہیں جن کا بعد میں پتا چلا کہ انہوں نے کم عمر میں شادیاں کر لی ہیں جو کہ سندھ حکومت کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ ایک بچی واپس آ گئی ہے جبکہ دوسری بچی کا پتا چلا کہ پنجاب میں ہے اور یہاں سے سندھ پولیس ان کو لینے گئی تھی مگر وہ وہاں سے نکل گئے تھے اور اس وقت وہ خیبر پختونخوا میں موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عدالت نے ہمیں جمعہ تک کا وقت دیا ہے اور میں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے بھی بات کی ہے کہ ہماری مدد کریں اور عدالت کو اس بات پتا ہونا چاہیے کہ آئی جی کی تقرری وفاقی حکومت کے ساتھ مشورے سے ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آئی جی سندھ کی تعیناتی کے حوالے سے وفاقی حکومت کے ساتھ مشورہ چل رہا ہے اور خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سے بھی گزارش کی ہے تاکہ دونوں صوبے ملک کر بچی کو بازیاب کرائیں۔
بیرونی ملک سے علاج کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں علاج کرانے نہیں بلکہ عالمی اقتصادی فورم میں شرکت کے کے لیے ڈیووس گیا تھا جہاں پہلی بار کسی صوبے کو بلایا گیا تھا۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنا بجٹ 14 جون کو پیش کرے گی۔
واضح رہے کہ 30 مئی کو کراچی سے لاپتا ہوکر صوبے سے باہر پہنچنے والی نمرہ کاظمی اور دعا زہرہ کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے آئی جی سندھ کو عہدے سے ہٹاتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو دوسرا افسر تعینات کرنے کا حکم دے دیا تھا۔
سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی بینج نے دعا زہرہ اور نمرہ کاظمی کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی، آئی جی سندھ کامران فضل اور ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن عدالت میں پیش ہوئے تھے۔