الیکشن کمیشن کو مخصوص نشستوں پر اراکین کے نوٹیفکیشن کا فیصلہ 2 جون کو کرنے کا حکم

الیکشن کمیشن کو مخصوص نشستوں پر اراکین کے نوٹیفکیشن کا فیصلہ 2 جون کو کرنے کا حکم
لاہور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو پنجاب اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر اراکین کے نوٹی فکیشن کا فیصلہ 2 جون تک کرنے کا حکم دے دیا۔


الیکشن کمیشن کی جانب سے 5 مخصوص نشستوں پر اراکین اسمبلی کا نوٹی فکیشن جاری نہ کرنے کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس امیر بھٹی نے کی۔
دورانِ سماعت چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کیوں کارروائی نہیں کر رہے، عمل کہاں رکا ہوا ہے؟
وکیل الیکشن کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے کا پراسیس کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے نوٹی فکیشن جاری کرنے کی درخواست موصول ہوئی تھی جس کے بعد مسلم لیگ (ن) نے نوٹی فکیشن جاری نہ کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔
وکیل نے مزید بتایا کہ دونوں جماعتوں کو سننے کے لیے نوٹس جاری کردیے گئے اور معاملے کی سماعت مقرر کردی ہے۔
تحریک انصاف کے وکیل عامر سعید نے الزام عائد کیا کہ الیکشن کمیشن جان بوچھ کر معاملے کو لٹکا رہا ہے۔
چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ اگر کوئی پارٹی الیکشن کمیشن کے پاس پیش نہ بھی ہو تو کمیشن فیصلہ کر دے۔
بعدازاں عدالت نے الیکشن کمیشن کو تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کی درخواستوں کو سن کر 2 جون کو قانون کے مطابق نوٹی فکیشن جاری کرنے کے حوالے سے فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔

پس منظر
خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کی جانب سے پنجاب اسمبلی کی 5 مخصوص نشستوں پر اراکین کا نوٹی فکیشن جاری نہ کرنے پر عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ تحریک انصاف 5 مخصوص نشستوں پر نوٹی فکیشن جاری کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کو نام فراہم کر چکی ہے لیکن ای سی پی نوٹیفکیشن جاری نہ کر کے قانون اور رولز کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کو نوٹی فکیشن جاری کرنے کے لیے کئی خط بھی لکھے گئے ہیں۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی تھی گئی کہ الیکشن کمیشن کو فوری مخصوص نشستوں کا نوٹی فکیشن جاری کرنے کا حکم دیا جائے۔
خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ایک خط لکھ کر مطالبہ کیا تھا کہ وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز کے انتخاب میں دستبردار ہونے والے 25 اراکین صوبائی اسمبلی کی نااہلی کے بعد مخصوص نشستوں پر 5 ایم پی ایز کا نوٹی فکیشن جاری کرے۔
دوسری جانب ایڈووکیٹ اظہر صدیق کے توسط سے ارسال کردہ خط میں کہا گیا تھا کہ 5 مخصوص نشستوں کے لیے ایم پی اے کا نوٹی فکیشن جاری نہ کرنا آئین کے آرٹیکل 204 کے سیکشن 3 کے تحت توہین عدالت کے دائرے میں آتا ہے۔
خط میں کہا گیا کہ اگر فوری طور پر نوٹی فکیشن جاری نہ کیا گیا تو پارٹی قانون کے مطابق توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے پر مجبور ہوگی۔
خط میں استدلال کیا گیا تھا کہ نااہل قرار دیے گئے ایم پی ایز کے لیے مخصوص نشستوں پر ضمنی انتخاب کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ آئین کا آرٹیکل 244 (6) واضح ہے اور اسی پر روح کے مطابق عمل درآمد کی ضرورت ہے۔