یورپی میڈیا میں روسی صدر کی علالت کی خبریں زیرِ گردش

یورپی میڈیا میں روسی صدر کی علالت کی خبریں زیرِ گردش
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی ناسازی طبیعت کی خبریں یورپی میڈیا میں گردش کر رہی ہیں۔


رپورٹ کے مطابق ’دی گارجین اخبار‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ غیر مصدقہ رپورٹس کے مطابق روسی صدر کینسر یا پارکنسنز (رعشہ) کے مرض میں مبتلا ہیں۔
روسی صدر سے متعلق یہ باتیں بھی کی جارہی ہیں کہ روسی رہنما اپنے خلاف ہونے والی بغاوت کی کوشش سے بچ گئے ہیں، نہ صرف یہ بلکہ کچھ اخبارات کے مطابق وہ پہلے ہی مر چکے ہیں اور ان کی جگہ ان کے باڈی ڈبل نے لے لی ہے۔
تاہم دی گارجین کا کہنا ہے کہ یہ ولادیمیر پیوٹن کے بہت سے مخالفین یا ناقدین کے لیے محض ایک خواہش مندانہ سوچ ہو سکتی ہے جو یوکرین پر ان کے مسلسل حملے کی وجہ سے کسی قدرتی انتقام یا اقتداری بغاوت کے سازشی نظریات پر بھی خوش ہوتے نظر آتے ہیں۔
دی گارجین نے روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ ایک انٹرویو کا حوالہ دیا جہاں وزیر خارجہ کو ان مفروضات کی تردید کرنے پر مجبور کیا گیا تھا کہ روسی صدر لادیمیر پیوٹن بیمار ہیں یا موت کے منہ میں جارہے ہیں۔
روسی وزیر خارجہ نے فرانسیسی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن ہر روز عوام کے سامنے آتے ہیں جن کو ٹی وی اسکرین پر ان کی کارکردگی کے بارے میں پڑھتے ہوئے اور بات کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ عقل مند افراد کسی بیماری یا خرابی صحت کے آثار دیکھ سکیں گے۔
پیر کو روسی صدر نے ترکی ہم منصب رجب طیب اردوان سے بات کی تھی اور ان کی سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کی تھی، کہا جاتا ہے کہ دونوں سربراہان کے درمیان ملاقاتیں دور سے ہوئی تھیں۔
قبل ازیں یوکرین کے ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ کیریلو بڈانوف نے کہا تھا کہ ان کا خیال ہے کہ ولادیمیر پیوٹن شدید بیمار ہیں اور وہ اپنے خلاف ہوئی بغاوت کی حالیہ کوشش میں بچ گئے ہیں، مبینہ حملہ آور روس کے قفقاز علاقے سے آئے تھے۔
پروکیٹ نامی تحقیقاتی ویب سائٹ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ روسی صدر تھائیرائیڈ کینسر یا کسی اور بیماری میں مبتلا ہیں۔
پروکیٹ تحقیقاتی ویب سائٹ کی یہ رپورٹ لیک ہونے والی سفری دستاویزات پر مبنی تھی جو ظاہر کرتی ہیں کہ روسی صدر کی ایک اونکولوجسٹ اور دو اوٹولرینگولوجسٹ سے باقاعدگی سے ملاقاتیں ہوتی تھیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اکثر تھائیرائیڈ کی حالت کی پہلی تشخیص کرتے ہیں۔
تاہم کریملن نے روسی صدر کے بیمار ہونے کے بارے میں کسی خبر کی تصدیق نہیں کی اور کہا ہے کہ روسی سربراہ کی صحت بہتر ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی ناسازی طبیعت کی خبریں یورپی میڈیا میں گردش کر رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ’دی گارجین اخبار‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ غیر مصدقہ رپورٹس کے مطابق روسی صدر کینسر یا پارکنسنز (رعشہ) کے مرض میں مبتلا ہیں۔
روسی صدر سے متعلق یہ باتیں بھی کی جارہی ہیں کہ روسی رہنما اپنے خلاف ہونے والی بغاوت کی کوشش سے بچ گئے ہیں، نہ صرف یہ بلکہ کچھ اخبارات کے مطابق وہ پہلے ہی مر چکے ہیں اور ان کی جگہ ان کے باڈی ڈبل نے لے لی ہے۔
تاہم دی گارجین کا کہنا ہے کہ یہ ولادیمیر پیوٹن کے بہت سے مخالفین یا ناقدین کے لیے محض ایک خواہش مندانہ سوچ ہو سکتی ہے جو یوکرین پر ان کے مسلسل حملے کی وجہ سے کسی قدرتی انتقام یا اقتداری بغاوت کے سازشی نظریات پر بھی خوش ہوتے نظر آتے ہیں۔
دی گارجین نے روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ ایک انٹرویو کا حوالہ دیا جہاں وزیر خارجہ کو ان مفروضات کی تردید کرنے پر مجبور کیا گیا تھا کہ روسی صدر لادیمیر پیوٹن بیمار ہیں یا موت کے منہ میں جارہے ہیں۔
روسی وزیر خارجہ نے فرانسیسی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن ہر روز عوام کے سامنے آتے ہیں جن کو ٹی وی اسکرین پر ان کی کارکردگی کے بارے میں پڑھتے ہوئے اور بات کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ عقل مند افراد کسی بیماری یا خرابی صحت کے آثار دیکھ سکیں گے۔
پیر کو روسی صدر نے ترکی ہم منصب رجب طیب اردوان سے بات کی تھی اور ان کی سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کی تھی، کہا جاتا ہے کہ دونوں سربراہان کے درمیان ملاقاتیں دور سے ہوئی تھیں۔
قبل ازیں یوکرین کے ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ کیریلو بڈانوف نے کہا تھا کہ ان کا خیال ہے کہ ولادیمیر پیوٹن شدید بیمار ہیں اور وہ اپنے خلاف ہوئی بغاوت کی حالیہ کوشش میں بچ گئے ہیں، مبینہ حملہ آور روس کے قفقاز علاقے سے آئے تھے۔
پروکیٹ نامی تحقیقاتی ویب سائٹ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ روسی صدر تھائیرائیڈ کینسر یا کسی اور بیماری میں مبتلا ہیں۔
پروکیٹ تحقیقاتی ویب سائٹ کی یہ رپورٹ لیک ہونے والی سفری دستاویزات پر مبنی تھی جو ظاہر کرتی ہیں کہ روسی صدر کی ایک اونکولوجسٹ اور دو اوٹولرینگولوجسٹ سے باقاعدگی سے ملاقاتیں ہوتی تھیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اکثر تھائیرائیڈ کی حالت کی پہلی تشخیص کرتے ہیں۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی ناسازی طبیعت کی خبریں یورپی میڈیا میں گردش کر رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ’دی گارجین اخبار‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ غیر مصدقہ رپورٹس کے مطابق روسی صدر کینسر یا پارکنسنز (رعشہ) کے مرض میں مبتلا ہیں۔
روسی صدر سے متعلق یہ باتیں بھی کی جارہی ہیں کہ روسی رہنما اپنے خلاف ہونے والی بغاوت کی کوشش سے بچ گئے ہیں، نہ صرف یہ بلکہ کچھ اخبارات کے مطابق وہ پہلے ہی مر چکے ہیں اور ان کی جگہ ان کے باڈی ڈبل نے لے لی ہے۔
تاہم دی گارجین کا کہنا ہے کہ یہ ولادیمیر پیوٹن کے بہت سے مخالفین یا ناقدین کے لیے محض ایک خواہش مندانہ سوچ ہو سکتی ہے جو یوکرین پر ان کے مسلسل حملے کی وجہ سے کسی قدرتی انتقام یا اقتداری بغاوت کے سازشی نظریات پر بھی خوش ہوتے نظر آتے ہیں۔
دی گارجین نے روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ ایک انٹرویو کا حوالہ دیا جہاں وزیر خارجہ کو ان مفروضات کی تردید کرنے پر مجبور کیا گیا تھا کہ روسی صدر لادیمیر پیوٹن بیمار ہیں یا موت کے منہ میں جارہے ہیں۔
روسی وزیر خارجہ نے فرانسیسی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن ہر روز عوام کے سامنے آتے ہیں جن کو ٹی وی اسکرین پر ان کی کارکردگی کے بارے میں پڑھتے ہوئے اور بات کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ عقل مند افراد کسی بیماری یا خرابی صحت کے آثار دیکھ سکیں گے۔
پیر کو روسی صدر نے ترکی ہم منصب رجب طیب اردوان سے بات کی تھی اور ان کی سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کی تھی، کہا جاتا ہے کہ دونوں سربراہان کے درمیان ملاقاتیں دور سے ہوئی تھیں۔
قبل ازیں یوکرین کے ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ کیریلو بڈانوف نے کہا تھا کہ ان کا خیال ہے کہ ولادیمیر پیوٹن شدید بیمار ہیں اور وہ اپنے خلاف ہوئی بغاوت کی حالیہ کوشش میں بچ گئے ہیں، مبینہ حملہ آور روس کے قفقاز علاقے سے آئے تھے۔
پروکیٹ نامی تحقیقاتی ویب سائٹ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ روسی صدر تھائیرائیڈ کینسر یا کسی اور بیماری میں مبتلا ہیں۔
پروکیٹ تحقیقاتی ویب سائٹ کی یہ رپورٹ لیک ہونے والی سفری دستاویزات پر مبنی تھی جو ظاہر کرتی ہیں کہ روسی صدر کی ایک اونکولوجسٹ اور دو اوٹولرینگولوجسٹ سے باقاعدگی سے ملاقاتیں ہوتی تھیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اکثر تھائیرائیڈ کی حالت کی پہلی تشخیص کرتے ہیں۔
تاہم کریملن نے روسی صدر کے بیمار ہونے کے بارے میں کسی خبر کی تصدیق نہیں کی اور کہا ہے کہ روسی سربراہ کی صحت بہتر ہے۔
دوسری جانب باخبر افراد نے بتایا کہ سابق روسی رہنما بورس یلسن جنہوں نے پیوٹن کو اقتدار میں آنے میں مدد کی تھی، ان کے داماد یوماشیف نے کریملن کے مشیر کے طور پر اپنا عہدہ چھوڑ دیا ہے۔
تاہم کریملن نے روسی صدر کے بیمار ہونے کے بارے میں کسی خبر کی تصدیق نہیں کی اور کہا ہے کہ روسی سربراہ کی صحت بہتر ہے۔
دوسری جانب باخبر افراد نے بتایا کہ سابق روسی رہنما بورس یلسن جنہوں نے پیوٹن کو اقتدار میں آنے میں مدد کی تھی، ان کے داماد یوماشیف نے کریملن کے مشیر کے طور پر اپنا عہدہ چھوڑ دیا ہے۔
دوسری جانب باخبر افراد نے بتایا کہ سابق روسی رہنما بورس یلسن جنہوں نے پیوٹن کو اقتدار میں آنے میں مدد کی تھی، ان کے داماد یوماشیف نے کریملن کے مشیر کے طور پر اپنا عہدہ چھوڑ دیا ہے۔