عمران خان کے مارچ کی کال دینے پر خیبر پختونخوا کی ’فورس‘ استعمال کروں گا، وزیر اعلیٰ

عمران خان کے مارچ کی کال دینے پر خیبر پختونخوا کی ’فورس‘ استعمال کروں گا، وزیر اعلیٰ
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان پارٹی کی آزادی مارچ سے متعلق ایک اور احتجاجی مارچ کی کال دیں گے تو وہ صوبے کی ’فورس‘ استعمال کریں گے۔


گزشتہ روز پشاور میں وکلا کنونشن سے خطاب کے دوران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ ’جب عمران خان دوسرے مارچ کا کہیں گے تو میں آپ کو کہہ رہا ہے میں خیبر پختونخوا کی فورس کا استعمال کروں گا‘۔
تاہم انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ ’فورس‘ سے کیا مراد ہے۔
محمود خان نے 25 مئی کو ہونے والے پی ٹی آئی کے ’حقیقی آزادی مارچ‘ کا حوالہ دیا جو عمران خان کے حکومت کو 6 دن کی مہلت دینے کے اعلان کے بعد اپنی منزل ڈی چوک پہنچنے سے قبل ہی اختتام پذیر ہوگیا تھا۔
عمران خان نے کہا تھا کہ حکومت 6 روز میں عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے اورخبردار کیا تھا کہ اگر ان کا مطالبہ نہیں مانا گیا تو وہ ’واپس‘ دارالحکومت آئیں گے۔
25 مئی کی شام کو مارچ کے آغاز پر حکومت کی جانب سے لانگ مارچ کو ناکام بنانے کے اقدامات کیے گئے تھے، پولیس نے پی ٹی آئی کے کارکنان اور رہنماؤں کے گھر پر چھاپے مارتے ہوئے انہیں گرفتار کرلیا تھا۔
پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ مظاہرین کا مقصد ’افراتفری پھیلانا اور امن و امان کی صورتحال‘ بگاڑنا تھا۔
علاوہ ازیں مارچ کے دوران طاقت کا استعمال کرتے ہوئے سڑکیں بھی بند کی گئیں جبکہ لانگ مارچ کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی سامنے آئیں جس میں پی ٹی آئی کے مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہلاکتیں بھی ہوئیں۔
بعد ازاں پارٹی کے متعدد رہنماؤں کے خلاف فسادات، تشدد اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی سمیت دیگر الزامات میں مقدمات بھی درج کیے گئے۔
عمران خان نے حال ہی میں اپنے خطاب میں خبردار کیا کہ ان کے کارکنان اگلے آزادی مارچ میں ’بہتر منصوبہ‘ بنائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ خونریزی کو روکنے کے لیے مارچ واپس بلایا گیا تھا۔
حال ہی میں ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ان کے کچھ کارکنان ’ خطرے‘ میں ہیں۔
مذکورہ مناظر کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ محمود خان نے کہا کہ پولیس کے ساتھ تصادم میں ہمارے کارکنان زخمی ہوئے، ہم امپورٹڈ حکومت کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے جارہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ انصاف لائرز فورم کے ساتھ ایک ملاقات ہوئی تھی جس میں وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 (قتل) کے تحت مقدمہ درج کرنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت دی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم انہیں نہیں بخشیں گے، اس وقت ہم پُرامن جلوس میں گئے تھے لیکن اب ہم خیبر پختونخوا کی فورس استعمال کریں گے’۔
وزیر اعظم شہباز شریف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے محمود خان نے کہا کہ وہ ’ذہنی مریض‘ ہیں، انہیں ماہر نفسیات کو دکھانا چاہیے، وہ پہلے ہمیں گندم فراہم کرنے کے لیے اپنے کپڑے فروخت کرنا چاہتا تھے لیکن یہ چور کے کپڑے ہیں اور اس کا کوئی خریدار نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کل وہ مانسہرہ آئے تھے تو انہوں نے کہا کہ میں وزیر اعلیٰ کو آٹے کی قیمت کم کرنے کے لیے 24 گھنٹے کی مہلت دے رہا ہوں۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ ’میں تمہیں مہلت دے رہا ہوں، جو خیبر پختونخوا کا حق ہے ہم چھین کر لیں گے، ہم خاموشی سے نہیں بیٹھیں گے، ہم ان کے خلاف مقدمہ کرنے جارہے ہیں اور جیت کر دکھائیں گے‘۔