اسلام آباد ہائیکورٹ: اٹارنی جنرل سے صدر کے اختیارات پر وضاحت طلب

اسلام آباد ہائیکورٹ: اٹارنی جنرل سے صدر کے اختیارات پر وضاحت طلب
اسلام آباد ہائی کورٹ نے صدارتی اختیارات کا جائزہ لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے اٹارنی جنرل پاکستان (اے جی پی) کو ہدایت کی کہ آئین کے دفعات اور عدالت عظمیٰ کے فیصلوں کی روشنی میں صدارتی اختیارات کی وضاحت کریں۔


رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں جسٹس عمر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ہائی کورٹ کی تین رکنی بینچ نے برطرف کیے گئے گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کی عہدے پر بحالی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے صدارتی اختیارات کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔
دوران سماعت اے جی پی اشتر اوصاف نے دلائل دیے کہ گورنر کا دفتر احترام کا حکم دیتا ہے اور چونکہ ان کی ملازمت صدر کی ’خوشنودی‘ سے مشروط ہے اس لیے گورنر اپنے عہدے کی بحالی کے لیے درخواست دائر نہیں کر سکتا کیونکہ اپنے عہدے پر مسلسل برقرار رہنا ان کا ذاتی حق نہیں۔
اے جی پی نے دلائل دیے کہ خوشنودی صدر کے قانونی اختیارات سے مختلف ہے۔
تاہم سابق گورنر عمر سرفراز چیمہ کے وکیل بابر اعوان نے عدالت کو آئین کے آرٹیکل 101 کی شق 3 کا حوالہ دیا جس میں لکھا گیا ہے کہ صدر کی خوشنودی تک گورنر اپنے دفتر میں کام جاری رکھ سکتا ہے اور اس کو تنخواہ اور مراعات دینے کا تعین صدر کر سکتا ہے۔
انہوں نے دلائل دیے کہ آئین میں گورنر کو عہدے سے ہٹانے سے متعلق وضاحت کی گئی ہے اور مذکورہ آرٹیکل کی شق 4 کا حوالہ پیش کیا جس میں لکھا ہے کہ گورنر اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے لیے صدر کو اپنے ہاتھ سے لکھ کر دے سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک گورنر استعفیٰ دے کر اپنا کام چھوڑ سکتا ہے یا صدر کی خوشنودی تک کام جاری رکھ سکتا ہے۔
اے جی پی نے استدلال کیا کہ گورنر کے عہدے سے متعلق خوشنودی کا وزیر اعظم کے مشورے پر زیادہ اثر نہیں پڑتا اور وضاحت کی کہ آئین کے آرٹیکل 48 نے صدر کے لیے کابینہ یا وزیر اعظم کے مشورے کے مطابق کام کرنا لازمی قرار دیا ہے۔
عدالت نے اے جی پی کو حکم دیا کہ ’نظریہ خوشنودی‘ کو قانون اور آئین کی روشنی میں واضح کریں۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ چونکہ صوبہ پنجاب گورنر کے بغیر چل رہا ہے اس لیے عدالت اس معاملے کو جلد از جلد حل کرے گی۔