6 روز میں الیکشن کا فیصلہ نہیں کیا تو 20 لاکھ افراد کے ساتھ دوبارہ اسلام آباد آؤں گا، عمران خان

6 روز میں الیکشن کا فیصلہ نہیں کیا تو 20 لاکھ افراد کے ساتھ دوبارہ اسلام آباد آؤں گا، عمران خان
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے حکومت کو 6 روز میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کا الٹی میٹم دے دیا۔


عمران خان کی زیر قیادت گزشتہ روز صوابی سے شروع ہونے والا ’حقیقی آزادی لانگ مارچ‘ اسلام آباد میں ڈی چوک کے قریب پہنچا، جہاں جناح ایونیو پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت کو پیغام ہے کہ 6 روز میں انتخابات کا اعلان کریں، 6 روز میں فیصلہ نہ کیا تو ساری قوم کو لے کر واپس اسلام آباد آؤں گا۔
کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں آپ کی ہمت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، میں 20 گھنٹے میں خیبرپختونخوا سے اسلام آباد پہنچا ہوں، میں نے دیکھا کہ میری قوم نے اپنے خوف پر قابو پالیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری حکومتیں جھوٹے کیسز اور گرفتاریوں سے ڈراتی تھیں، میں نے پہلی بار دیکھا کہ میری قوم ان سارے خوف سے آزاد ہوچکی ہے، جب تک قوم خوف سے آزاد نہ ہو تب تک اس سے آسانی سے غلامی کروائی جاسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی کو ممی ڈیڈی کہتے تھے، میں نے سارے راستے اپنے ساتھ ہر طرح کے لوگ دیکھے، انہوں نے آنسو گیس کا جس طرح مقابلہ کیا اس کی کوئی مثال نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری اس تحریک کو ناکام بنانے کی کوشش کی گئی لیکن میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ قوم آزادی کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ججوں پر ایک بڑی ذمہ داری ہے، دنیا میں ایسی کون سی جمہوریت ہے جہاں پرامن احتجاج کی اجازت نہیں دی جاتی اور مظاہرین کو آنسو گیس کی شیلنگ، پولیس کے چھاپوں اور گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟
انہوں نے کہا کہ میں آج اپنی عدلیہ اور سپریم کورٹ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، ان کا شکریہ کہ حکومت کی جانب سے ہمارے کارکنان کی پکڑ دھکڑ کا انہوں نے نوٹس لیا۔
عمران خان نے کہا کہ کیا جمہوریت میں اس طرح کے طریقے اپنائے جاتے ہیں، ایک ساتھی کو اٹک میں اور ایک کو دریائے راوی میں گرا کر شہید کیا گیا، 3 لوگوں کو کراچی میں شہید کیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں، ہمارے ہزاروں کارکنوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔
انہوں نے سپریم کورٹ سے سوال کیا کہ ہم کون سا جرم کررہے تھے؟ 26 سال کی سیاست میں کب میں نے قانون توڑا؟ میں ہمیشہ اپنے جلسوں میں فیملیز کو بلاتا ہوں، آزای مارچ میں خواتین اور بچوں نے بھی شرکت کی ہے، میں اپنی خواتین کو سلیوٹ کرتا ہوں۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہم نے اعلان تو کیا تھا کہ الیکشن کے اعلان تک اسلام آباد میں بیٹھیں گے لیکن گزشتہ 24 گھنٹوں میں دیکھا کہ یہ لوگ ملک کو انتشار کی جانب لے کر جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں یہاں بیٹھ گیا تو یہ لوگ تو خوش ہوں گے کیونکہ یہ لوگ فوج اور پولیس سے ہماری لڑائی کروانا چاہتے ہیں لیکن یہ پولیس بھی ہماری ہے، فوج بھی ہماری ہے اور عوام بھی ہمارے ہیں، ہم ملک کو تقسیم کرنے نہیں آئے بلکہ قوم کو بنانے کے لیے آئے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت کو پیغام ہے کہ 6 روز میں انتخابات کا اعلان کریں، 6 روز میں فیصلہ نہ کیا تو ساری قوم کو لے کر واپس اسلام آباد آؤں گا، جون میں الیکشن کا اعلان کریں اور اسمبلی تحلیل کریں، اعلان نہ کیا تو 20 لاکھ لوگ اسلام آباد میں اکھٹا کریں گے۔
دوسری جانب اسلام آباد پولیس کے مطابق عمران خان کے خطاب کے بعد پی ٹی آئی کے مظاہرین ریڈ زون کے اندر داخل ہوگئے، ترجمان اسلام آباد پولیس نے بتایا کہ پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انہیں بڑے تحمل سے روکا۔
ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا تھا کہ آئی جی اسلام آباد ڈاکٹر اکبر ناصر خان بھی خود موقع پر موجود ہیں، تمام مظاہرین کو ریڈ زون سے باہر جانے کی ہدایت کی جارہی ہے۔

ریڈ زون میں پاک فوج کے دستوں کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن
اس سے قبل پی ٹی آئی کارکنان کے ڈی چوک پہنچنے کے بعد رات گئے وفاقی حکومت نے اہم سرکاری عمارتوں کی حفاظت کے لیے ریڈ زون میں فوج تعینات کردی تھی۔
وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے ایک نوٹیفکیشن ٹوئٹ کیا جس میں کہا گیاتھا کہ حکومت نے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت ریڈ زون میں فوج کی تعیناتی کی اجازت دی ہے۔
جن عمارتوں کو محفوظ کیا جائے گا ان میں سپریم کورٹ، پارلیمنٹ ہاؤس، وزیراعظم ہاؤس، ایوان صدر، پاکستان سیکریٹریٹ اور ڈپلومیٹک انکلیو شامل ہیں۔
بعد ازاں پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے ٹوئٹ کیا تھا کہ عمران خان سینٹورس پل پر مظاہرین سے خطاب کریں گے۔
صوابی کے ولی انٹرچینج سے سفر شروع کرنے والے عمران خان کا قافلہ سری نگر ہائی وے کے راستے ڈی چوک کی جانب جارہا تھا جبکہ پہلے سے وہاں موجود ان کی پارٹی کے کارکنوں اور حامیوں کی ایک بڑی تعداد نے پولیس کی شدید شیلنگ کا سامنا کیا۔
قبل ازیں دارالحکومت سے تقریباً 50 کلومیٹر دور حسن ابدال میں ایک مختصر قیام کے دوران عمران خان نے اس بات کا اعادہ کیا تھا کہ وہ اور ان کے حامی اس وقت تک ڈی چوک خالی نہیں کریں گے جب تک ’امپورٹڈ‘ حکومت کی جانب سے نئے انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا جاتا۔
سپریم کورٹ کی جانب سے پی ٹی آئی کو اسلام آباد کے علاقے ایچ-9 میں احتجاج کرنے کی ہدایت اور حکومت کو گرفتاریاں نہ کرنے یا طاقت کا استعمال نہ کرنے کے احکامات کے باوجود پی ٹی آئی کا مارچ ڈی چوک کی جانب رواں دواں رہا اور پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ بھی ہوئی۔

پولیس پر ایکسپائرڈ آنسو گیس استعمال کرنے کا الزام
اس سے قبل گزشتہ روز پی ٹی آئی کا آزادی مارچ کا آغاز ہوتے ہی پنجاب میں سیاسی صورتحال اس وقت کشیدہ ہوگئی جب پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا اور صوبے بھر کے شہروں میں پی ٹی آئی کے متعدد مظاہرین کو گرفتار کر لیا جنہوں نے اسلام آباد جانے والے راستوں کو روکنے والے شپنگ کنٹینرز ہٹانے کی کوشش کی۔
سینئر صحافی حامد میر نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر دعویٰ کیا تھا کہ انہیں پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری کا ایک پیغام موصول ہوا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس کی جانب سے خواتین اور بچوں پر چلائی جانے والی آنسو گیس ایکسپائر ہو چکی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ شیریں مزاری کے مطابق ایکسپائرڈ آنسو گیس کا استعمال نہ صرف عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ رانا ثنا اللہ کی جانب سے پاکستانی شہریوں کے خلاف دہشت گردی ہے، شیریں مزاری نے اپنے دعوے کی تصدیق کرتے ہوئے حامد میر کے ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ بھی کیا۔

عمران خان کی تمام پاکستانیوں سے سڑکوں پر آنے کی اپیل
اس دوران ایک ویڈیو پیغام میں عمران خان نے تمام پاکستانیوں کو اپنے اپنے شہروں میں سڑکوں پر آنے اور اسلام آباد مارچ کرنے والوں کو ڈی چوک پہنچنے کا کہا تھا۔
انہوں نے کہا تھا کہ میں ایک سے دو گھنٹے میں وہاں پہنچ جاؤں گا، انہوں نے خواتین اور بچوں سے بھی اپیل کی کہ وہ حقیقی آزادی کے لیے گھروں سے باہر نکلیں، انہوں نے کہا کہ یہ اچھی خبر ہے کہ سپریم کورٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ مارچ کے دوران کسی کو گرفتار نہیں کیا جائے گا۔
ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا تھا کہ آپ کی بھرپور موجودگی پورے پاکستان میں پیغام دے گی کہ قوم اس امپورٹڈ حکومت کو مسترد کر چکی ہے۔
اس سے قبل گزشتہ روز شام 6 بجے کے قریب خیبرپختونخوا سے عمران خان کے ہمراہ مرکزی قافلہ اٹک پل پر پنجاب حکومت کی جانب سے مارچ کرنے والوں کو صوبے میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے لگائے گئی رکاوٹوں کو کامیابی سے ہٹانے کے بعد پنجاب میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔
فواد چوہدری اور شیریں مزاری سمیت پی ٹی آئی کے کچھ سرکردہ رہنماؤں نے راستے سے تمام کنٹینرز اور ناکہ بندی ہٹائے جانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کارکنان پر زور دیا کہ وہ اسلام آباد میں ڈی چوک کی جانب بڑھیں۔
اس دوران اسلام آباد کے بلیو ایریا میں شدید شیلنگ کی اطلاعات موصول ہوئیں، ٹیلی ویژن فوٹیجز میں علاقے میں بھرپور دھواں دیکھا گیا اور مرکزی سڑکوں سے ملحقہ راہداریوں پر درختوں میں آگ لگتی دکھائی دی۔
حکومت کا دعویٰ تھا کہ آگ پی ٹی آئی کے حامیوں نے لگائی تھی جب کہ پی ٹی آئی کا دعویٰ تھا کہ آگ پولیس کی شیلنگ کے سبب لگی، کسی بھی دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب حکومت کی جانب سے مارچ کی اجازت نہ ملنے کے صرف ایک روز بعد پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے اپنے حامیوں کو اسلام آباد کی جانب ’حقیقی آزادی‘ کے لیے مارچ کرنے کی تلقین کی تھی، عمران خان نے نوجوانوں سے کہا تھا کہ وہ اپنی مدد آپ رکاوٹیں دور کریں۔
اس سے قبل عمران خان گزشتہ روز ہیلی کاپٹر کے ذریعے خیبرپختونخوا میں ولی انٹر چینج پہنچے تھے جہاں سے کنٹینر میں سوار ہو کر انہوں نے لانگ مارچ کا باضابطہ آغاز کردیا تھا۔
دوسری جانب لاہور میں لانگ مارچ کے لیے اسلام آباد جانے کی کوشش کرنے والے پی ٹی آئی کارکنان اور پولیس کے درمیان گھمسان کا رن پڑا جہاں پولیس کی جانب سے مظاہرین پر لاٹھی چارج اور شیلنگ کی گئی جبکہ کارکنان نے پولیس پر پتھر برسائے۔
اس کے علاوہ کراچی میں تحریک انصاف نے نمائش چورنگی پر احتجاج کا اعلان کر رکھا تھا اور یہاں بھی کارکنان اور پولیس کا تصادم دیکھنے میں آیا جس میں مشتعل افراد نے پولیس وین کو آگ بھی لگادی جبکہ پولیس نے متعدد افراد کو گرفتار کرلیا تھا۔
خیال رہے کہ پولیس نے پی ٹی آئی کا لانگ مارچ روکنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد اسلام آباد کی متعدد سڑکیں کنٹینرز لگا کر اور رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کردی گئی تھیں۔
تاہم سپریم کورٹ نے حکومت کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کو گرفتار نہ کرنے اور احتجاج کے لیے اسلام آباد کے سیکٹر ایچ 9 اور جی 9 کے درمیان جگہ فراہم کرنےکا حکم دیا تھا۔