بھارتی ناظم الامور کی دفترخارجہ طلبی، یٰسین ملک کو سنائی گئی سزا مسترد

بھارتی ناظم الامور کی دفترخارجہ طلبی، یٰسین ملک کو سنائی گئی سزا مسترد
پاکستان نے بھارت کی عدالت کی جانب سے مقبوضہ جموں اور کشمیر کے حریت رہنما یٰسین ملک کو سنائی گئی سزا کو متنازع کیس میں جھوٹی سزا قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔


ترجمان دفترخارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسلام آباد میں بھارتی ناظم الامور کو دفترخارجہ طلب کیا گیا اور انہیں حریت رہنما یٰسین ملک کو جھوٹی سزا سنانے کی شدید مذمت کی اور مسترد کردیا گیا۔
بھارتی ناظم الامور کو بتایا گیا کہ یٰسین ملک کو ‘ غیرقانونی سرگرمیوں سے روکنے کا ایکٹ (یو اے پی اے) اور انڈین پینل کوڈ (آئی پی سی) کے تحت 2017 کو انڈین نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی جانب سے درج کیے گئے انتہائی مشکوک اور متنازع مقدمے میں’ سزا سنائی گئی ہے۔
ترجمان دفترخارجہ کے بیان کے مطابق ‘بھارتی ناظم الامور کو یٰسین ملک کو انتہائی قابل مذمت سزا سنانے پر پاکستان کے غصے سے آگاہ کیا کیونکہ ان کو سزا جھوٹے الزامات، شفاف ٹرائل کے حق سے محروم رکھ کر اور صحت کی خرابی کے باوجود غیرانسانی قید کے دوران سنائی گئی ہے’۔
پاکستان نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ یٰسین ملک کو سنائی گئی سزا انسانی حقوق کے عالمی کنونشن اور سول اور سیاسی حقوق کے عالمی کنویننٹ کی خلاف ورزی ہے۔
بھارتی ناظم الامور کو بتایا گیا کہ یہ انتہائی بوگس اور یک طرفہ ٹرائل پر مبنی مقدمہ ہے اور بھارت نے کشمیری قیادت کو سزائیں دینے کے لیے ایک مرتبہ پھر عدالت کا غلط استعمال کیا ہے۔
دفترخارجہ کا کہنا تاھ کہ بھارت کے مکروہ اقدامات کشمیریوں کو ان کے حق خود ارادیت کو خود سے دہشت گردی قرار دینا کشمیریوں کے قانونی حق سے روگردانی کی کوششیں ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ بھارتی ناظم الامور کو بتایا بیا کہ حکومت پاکستان بدستور تشویش میں مبتلا ہے کہ یٰسین ملک کو 2019 سے تہاڑ جیل میں غیرانسانی حالات میں رکھا گیا ہے۔
گزشتہ برس بھارتی جیل میں انتقال کرجانے والے حریت رہنما اشرف صحرائی کے واقعے کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان کو یٰسین ملک کی صحت کے بارے میں انتہائی تشویش ہے خاص طور پر انہیں بھارتی جیل میں ناقص طبی امداد دی گئی حالانکہ انہیں خطرناک بیماری لاحق ہے، جس کی وجہ سے ان کی صحت تیزی سے گری ہے۔
بھارتی عہدیدار کو بتایا گیا کہ اپنی حکومت کو مشورہ دیں کہ وہ یٰسین ملک کو تمام بے بنیاد الزامات سے بری کرے اور ان کی صحت کی بہتری کے لیے اقدامات کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر جیل سے رہا کردے۔
دفترخارجہ نے بھارتی ناظم الامور کو بتایا کہ حکومت بھارت جھوٹے مقدمات پر تمام کشمیری رہنماؤں کو رہا کرے اور مقبوضہ کشمیر میں عوام پر منظم ظلم و ستم بند کردے۔
بھارتی عہدیدار کو بتایا گیا کہ بھارت اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو آزادانہ اور غیرجانب دارانہ رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کے تعین کرنے کی اجازت دے دیں۔
قبل ازیں نئی دہلی کی خصوصی عدالت نے دہشت گردی کے لیے مالی معاونت اور دیگر الزامات پر حریت رہنما یٰسین ملک کو عمر قید کی سزا سنادی تھی۔
بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے عدالت سے جموں اور کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے سربراہ یٰسین ملک کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ وکیل دفاع نے عمر قید کی استدعا کی تھی۔
وکیل اُمیش شرما کا کہنا تھا کہ عدالت نے یٰسین ملک کو دو بار عمر قید اور پانچ بار 10 سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے، تمام سزائیں ایک ساتھ چلائی جائیں گی جبکہ حریت رہنما پر بھارتی 10 لاکھ روپے سے زائد کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔
سماعت کے دوران یٰسین ملک نے کہا کہ اگر وہ مجرم ہیں تو اٹل بہاری واجپائی کے دور میں بھارتی حکومت نے مجھے کیوں پاسپورٹ جاری کیا تاکہ وہ دنیا بھر میں سفر کرکے بات کر سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے 1994 میں مسلح جدوجہد چھوڑ کر مہاتما گاندھی کے اصولوں پر عمل کیا ہے اور اس کے بعد سے وہ مقبوضہ کشمیر میں تشدد سے پاک سیاست کر رہے ہیں۔
انہوں نے بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو چیلنج کیا کہ وہ ثابت کریں کہ حریت رہنما گزشتہ 28 سالوں کے دوران کسی بھی دہشت گردی کی سرگرمی یا تشدد میں ملوث رہے ہوں، اگر وہ یہ ثابت کرتے ہیں تو وہ سیاست سے ریٹائر ہوجائیں گے اور تختہ دار پر لٹک جائیں گے۔
واضح رہے کہ 19 مئی کو دہلی کورٹ نے کشمیری حریت پسند رہنما یٰسین ملک کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے کیس میں مجرم قرار دیا تھا۔
پاکستان نے حریت رہنما کو بھارتی عدالت کی طرف سے مشکوک اور سیاسی مقدمے میں سزا سنانے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی تھی اور بھارتی حکام پر زور دیا تھا کہ وہ کشمیریوں کے حقیقی نمائندوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بند کریں۔
سینیٹ نے ایک قرارداد بھی منظور کی تھی جس میں عالمی برادری پر زور دیا گیا تھا کہ وہ بھارت کو مجبور کرے کہ وہ یٰسین ملک سمیت مقبوضہ کشمیر کے تمام سیاسی رہنماؤں کے خلاف تمام من گھڑت الزامات کو واپس لے اور ان کی حفاظت اور بہبود کو یقینی بنائے۔