ایران: پاسداران انقلاب کے کرنل قتل، امریکا پر حملے کا الزام

ایران: پاسداران انقلاب کے کرنل قتل، امریکا پر حملے کا الزام
ایران میں پاسداران انقلاب کے کرنل کو دارالحکومت تہران میں ان کے گھر کے باہر فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا، پاسداران انقلاب نے الزام عائد کیا ہے کہ قاتلوں کا تعلق امریکا اور اس کے اتحادیوں سے ہے۔


غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق ایران نے کرنل سید خدائی کے قتل کو 2020 میں جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کے قتل کے بعد سب سے ’ہائی پروفائل‘ قتل قرار دیا ہے۔
ایران نے محسن فخری زادہ کے قتل کے ’ماسٹرمائنڈ‘ ہونے کا الزام صیہونی ریاست اسرائیل پر عائد کیا تھا۔
اتوار کو پاسداران انقلاب نے امریکا اور اس کے اتحادی بشمول اسرائیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ ’دشمنوں کا تعلق عالمی تکبر سے ہے، جو اس ’دہشت گردی کے عمل‘ کے ذمہ دار ہیں جس میں کرنل سید خدائی کی ہلاکت ہوئی ہے۔
اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں پاسداران انقلاب نے کہا کہ کرنل خدائی کو تہران میں مجاہدین اسلام گلی میں واقع ان کے گھر کے باہر دو موٹرسائیکل سوار مسلح افراد نے قتل کیا۔
پاسداران انقلاب، جو کہ ایران کی فوج کا نظریاتی بازو کہلاتے ہیں، نے کرنل سید خدائی کو مقدس جگہ کے محافظ‘ کے طور پر بیان کیا، یہ اصطلاح ہر اس شخص کے لیے استعمال ہوتی ہے جو شام یا عراق میں اسلامی جمہوریہ کی جانب سے کام کرچکا ہو۔
ایران، عراق میں کافی اثر و رسوخ رکھتا ہے جہاں اس کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ’فوجی مشیر‘ ہیں جو غیر ملکی رضاکاروں کو تربیت دینے کے لیے مامور ہیں۔
ایران، شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کا اہم اتحادی ہے جس نے شام میں 11 سال سے جاری خانہ جنگی میں ان کی حکومت کی حمایت کی ہے۔
تہران کا کہنا ہے کہ دمشق کی دعوت پر اس نے شام میں فوج تعینات کردی ہے مگر صرف مشیروں کے طور پر، سرکاری ٹیلی ویژن نے وضاحت کیے بغیر کہا کہ سید خدائی شام میں ’مشہور‘ تھے۔

کرنل کو 5 گولیاں لگیں
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’اِرنا‘ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ کرنل سید خدائی کی ہلاکت اس وقت 5 گولیاں لگنے سے ہوئی جب وہ شام 4 بجے کے قریب گھر واپس آرہے تھے۔
ایجنسی نے تصاویر شائع کیں جن میں دکھایا گیا ہے کہ ایک شخص سفید کار کی ڈرائیور سیٹ پر گرا ہوا ہے، اس کی نیلی شرٹ کے کالر کے گرد اور اس کے دائیں اوپری بازو پر خون تھا۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ انہوں نے حملہ آوروں کی شناخت کے لیے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی ’فارس‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ ریاستی پراسیکیوٹر نے قتل کی جگہ کا دورہ کیا اور حکم دیا کہ جلد شناخت کرکے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے۔