پاکستان، یوکرین جنگ سے متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، اقوام متحدہ

پاکستان، یوکرین جنگ سے متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، اقوام متحدہ
اقوام متحدہ کے معاشی و سماجی کمیشن برائے ایشیا اور پیسیفک (یو این ای ایس سی اے پی) نے خطے کے خصوصی صورتحال والے ممالک میں پاکستان سمیت 12 ممالک کو شامل کرلیا ہے، ان ممالک کو یوکرین سمیت دیگر جاری جنگوں سے متاثر ہونے والے ممالک کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔


رپورٹ کے مطابق پالیسی رپورٹ برائے 'یوکرین میں جنگ، اثرات، ایکسپوجر اور پالیسی مسائل ایشیا اور پیسیفک' اتوار کو آئن لائن جاری کی گئی، جس میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ 12 ممالک معاشی ڈھانچے اور صورتحال کے سبب بُری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
پالیسی رپورٹ کے مطابق ان ممالک کو توانائی اور خوارک کی بُلند قیمتوں، کم بیرونی مالیاتی آمد، مالیاتی لاگت میں اضافے اور کاروباری جذبے میں اچانک تبدیلی نے متاثر کیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان ممالک میں آرمینیا، کمبوڈیا، جورجیا، قازقستان، کیرباتی، مالدیپ، پاکستان، صومالیہ، ساموا، جزیرہ سلیمان، سری لنکا، تاجکستان اور وانواتو شامل ہیں۔
پالیسی پیپر کے مطابق توانائی کے حوالے سے کمبوڈیا، پاکستان، جزیرہ سلیمان اور وانواتو کو توانائی کی بڑھتی قیمتوں نے ایشیا پیسیفک کے دیگر ممالک کے مقابلے میں متاثر کیا ہے، جبکہ پاکستان اور سری لنکا بیرونی قرضوں اور قرضوں کی ادائیگی کے باعث زیادہ بے نقاب ہوئے ہیں۔
ای ایس سی اے پی، ایشیا پیسیفک کے ان ممالک سے رابطے میں ہے جو یوکرین جنگ کے باعث زیادہ متاثر ہوئے ہیں، پاکستان، سری لنکا اور مالدیپ میں خواتین آجروں کو ای کامرس اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے حوالے سے ٹریننگ دے رہے ہیں۔ اسی طرح پاکستان، قازقستان، سری لنکا، ساموا اور تاجکستان میں مالی وسائل کو بہتر کرنے کے پالیسی آپشنز پر بھی غور کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عالمی توانائی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی سے غریب گھرانے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ خوراک کی بڑھتی قیمتوں سے غریبوں کو محفوظ رکھنے کے لیے حکومتوں کو سبسڈی دینی چاہیے اور اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ ان سبسڈی اسکیموں سے ضرورت مندوں کو فائدہ ہوگا، تاہم اس کے لیے مضبوط مالی صورتحال کی ضرورت ہوگی جو کہ عالمی وبا کے بعد ایشیا پیسیفک خطے میں پہلے ہی خراب ہوچکی ہے۔
معاشی غیر یقینی صورتحال میں اضافے کے باعث عالمی سرمایہ کار محفوظ منڈیوں کی جانب منتقل ہو رہے ہیں، جس کے سبب دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایشیا پیسیفک کے زیادہ تر ملک توانائی اور خوراک کے خالص درآمد کنندگان ہیں، خوراک کا 'کنزیومر پرائس انڈیکس' کی باسکٹ میں 40 فیصد حصہ ہے، مارچ میں خطے میں اوسط مہنگائی بڑھ کر 7 اعشاریہ 3 فیصد ہوگئی تھی۔
پاکستان میں بھی اپریل 2022 میں مہنگائی کی شرح 13 اعشاریہ 4 فیصد ہوگئی جو مرکزی بینک کے ہدف سے دگنی شرح ہے۔
رپورٹ کے مطابق خطے کے ممالک کو مالی اضافے اور پالیسی کی ساکھ کو بہتر کرنے کے لیے متعدد مالیاتی آپشنز پر کام کرنا ہوگا، یہ ممالک عارضی طور پر اشیائے ضروریہ پر ٹیکس کو کم اور قومی ایمرجنسی مالیاتی میکانزم کی کوریج میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ایشیا پیسیفک خطے میں برآمدات کی کارکردگی ملی جلی ریکارڈ کی گئی، تاہم برآمدی نمو میں آنے والے مہینوں میں اضافے کی توقع ہے۔ وسیع معنوں میں کمزور برآمدی آمدنی اور کم ہوتی سرمایہ کاری، منفی 'ٹرمز آف ٹریڈ' کے ساتھ ادائیگیوں کے توازن پر بڑا دباؤ ڈال سکتی ہے۔
مزید بتایا گیا کہ کچھ اشاریوں کے مطابق سیاحتی سرگرمیوں کے جذبے کو بھی ٹھیس پہنچی ہے۔
ایشیا اور پیسیفک میں سفر سے متعلق متعدد ویب سائٹس پر سماجی بات چیت کی بنیاد پر مارچ اور اپریل 2022 میں سیاحت کے جذبے میں کمی دیکھی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یوکرین کی جنگ کے سبب عالمی بُلند شرح سود اور معاشی غیر یقینی کی صورتحال سے ایشیا پیسیفک حکومتوں کی مالیاتی لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ جنگ کے باعث خطے کے زیادہ تر معیشتوں میں توانائی اور اشیائے ضروریہ پر بُلند سبسڈی اخراجات اور کم محصولات کے سبب مالیاتی صورتحال کمزور ہوئی ہے۔
خطے میں اوسط مالیاتی خسارے کا جی ڈی پی تناسب میں 2019 میں ایک اعشاریہ 3 فیصد کے مقابلے میں 2020 اور 2021 میں 5 اعشاریہ 3 فیصد تک پہنچنا بھی خطرے کی علامت ہے۔