این سی او سی کی تشکیل نو کردی گئی، نوٹیفکیشن جاری

این سی او سی کی تشکیل نو کردی گئی، نوٹیفکیشن جاری
وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کی ہدایت پر قومی ادارہ صحت میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی تشکیل نو کردی گئی جس کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا۔


وزیر اعظم کے دفتر سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تمام متعلقہ وزارتیں اور ڈائریکٹوریٹ این سی او سی کی کارروائی میں معاونت کرتے رہیں گی جبکہ وزیرِ صحت، این سی او سی کے امور کی صدارت کریں گے۔
این سی او سی قومی سطح پر صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال کی روک تھام، سراغ رسانی، نگرانی اور ردعمل کے ساتھ ساتھ تمام صوبوں اور علاقوں کے ساتھ ہم آہنگی کو آسان بنانے کے لیے اپنی کارروائیوں میں توسیع کرے گا۔
خیال رہے کہ 10 مئی کو وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک میں کورونا وائرس کے نئے اومیکرون ویرینٹ کا پہلا کیس سامنے آنے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کو بحال کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔
وزیر اعظم نے وزارت برائے قومی صحت سے اومیکرون ویرینٹ کے نئے سب ویرینٹ کے حوالے سے موجودہ صورتحال سے متعلق رپورٹ بھی طلب کی تھی۔

این سی او سی بند کرنے کا اعلان
واضح رہے کہ 31 مارچ 2022 کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے ملک میں کورونا وائرس کے کیسز میں تیزی سے کمی اور بڑی آبادی کی کامیاب ویکسی نیشن کے بعد نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔
ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں سابق وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی اور اصلاحات و خصوصی اقدامات اسد عمر نے کہا تھا کہ ملک میں کووڈ 19 کے کیسز اور ویکسی نیشن کی شرح کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب ہم نے اس وبا کے ساتھ زندگی گزارنے کا نارمل طریقہ کار اپنانا ہے اور ایمرجنسی میں بنائے گئے اس ادارے کو بند کرنے کا وقت آگیا ہے۔
انہوں نے پوری قوم کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ مبارکباد دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہماری ویکسی نیشن کی شرح بہت اچھی سطح تک پہنچ چکی ہے اور وبا کا پھیلاؤ بھی کم ہو گیا ہے، لہٰذا آج این سی او سی کے آپریشن کا آخری دن ہے۔
اس سلسلے میں اسد عمر نے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ 2 سالوں کے دوران این سی او سی کی سربراہی کرنا میری زندگی کا سب سے بڑا اعزاز ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمت اور پوری قوم کے تعاون سے ہم بڑے چیلنج پر قابو پانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

این سی او سی کا قیام
این سی او سی کا قیام 27 مارچ 2020 کو عمل میں آیا تھا اور قوم کو کورونا وائرس کے اعداد و شمار سے آگاہ رکھنے میں اس نے اہم کردار ادا کیا۔
این سی او سی میں روزانہ اجلاس ہوتا تھا جس میں وفاقی وزیر برائے ترقی، منصوبہ بندی و خصوصی اقدامات اسد عمر، معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان اور نیشنل کوآرڈینیٹر میجر جنرل محمد ظفر اقبال شرکت کرتے تھے۔
مزید برآں اس میں تمام صوبوں اور انتظامی اکائیوں کی نمائندگی بھی تھی۔
این سی او سی کی جانب سے ہر 8 گھنٹے میں اعداد و شمار جاری کیے جاتے تھے اور دن میں کم از کم ایک مرتبہ انہیں اپ ڈیٹ کیا جاتا تھا۔
پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس فروری 2020 کے آخری ہفتے میں رپورٹ ہوا تھا۔
اس بحران پر تبادلہ خیال کے لیے فوجی اور سول اعلیٰ قیادت پر مشتمل قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) کا پہلا اجلاس 13 مارچ کو ہوا تھا، جسے بعد ازاں ڈبلیو ایچ او نے عالمی وبا قرار دیا تھا۔