چیف ایگزیکٹو نے ایف آئی اے افسران کو تبدیل کیا، سپریم کورٹ نے سوموٹو کیوں لیا ؟ فضل الرحمٰن

چیف ایگزیکٹو نے ایف آئی اے افسران کو تبدیل کیا، سپریم کورٹ نے سوموٹو کیوں لیا ؟ فضل الرحمٰن
پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے سپریم کورٹ سے شکوہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب چیف ایگزیکٹو نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ایف آئی اے کے افسران کو تبدیل کیا تو ججز نے سوموٹو نوٹس کیوں لیا، عدلیہ کا اپنا کام ہے اور ایگزیکٹو کا اپنا کام ہے۔


جے یو آئی کے تحت کراچی میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ جب مسجد اقصٰی پر یہودی دہشت گردوں نے جارحیت کی تھی تو پاکستان سے کراچی کی سرزمین پر ہماری جماعت نے بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں ایک خاص لابی یہ درس دے رہی تھی کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا چاہیے، لیکن آپ کے ایک جلسے نے ان کی زبانیں ایسی بند کیں کہ پھر پاکستان کی سرزمین پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کی جرات نہیں ہوئی، آپ کی آواز میں اللہ نے ایک تاثیر، رعب و دبدبہ رکھا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج ہمارے نبی ﷺ کے حرم اقدس کی بے حرمتی ان بیرونی یہودی ایجنٹوں نے کی، آپ کا حق ہے کہ آپ اسی میدان میں جمع ہوں اور ان قوتوں کو للکاریں کہ اگر حرم اقدس ﷺ کی توہین کی گئی تو زبانوں کو گدی سے کھینچ کر قیامت تک کے لیے تمہاری زبانوں کو خاموش کردیا جائے گا۔
جے یو آئی سربراہ کا کہنا تھا کہ حرم اقدس ﷺ کی حرمت کو پامال کرنے والے یاد رکھیں کہ اگر ایسی کوشش کی گئی تو ہم ان ایجنٹوں کو کراچی کے ساحل میں غرق کردیں گے اور پاکستان کی سرزمین پر جینے کا حق نہیں دیں گے۔
سربراہ پی ڈی ایم کا کہنا تھا کہ دنیا کی آبادی کا چھٹا حصہ اپنے پیغمبر ﷺ کی حرمت پر قربان ہونے کے لیے تیار ہے، ایک ارب سے زیادہ آبادی حرمت رسول پر جان قربان کرنے کے لیے تیار ہے۔

'اقتدار ملنے سے عمران خان کی نا اہلی، نالائقی دنیا کے سامنے آگئی'
ان کا کہنا تھا کہ ہم تحمل و برداشت کرنے والے لوگ ہیں مگر اس یہ ایسا موقع ہے جہاں صبر و تحمل کے تمام بندھن ٹوٹ جاتے ہیں، عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کان کھول کر سن لو تمہیں امریکا، برطانیہ، مغربی، یہودی لابی اور میڈیا نے بہت بڑھا چڑھا کر آسمان پر چڑھا دیا کہ عقل و دانش، وژن، منصوبہ بندی سب کچھ عمران خان کے پاس ہے یہ ہی خوشحالی لائےگا۔
مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ اس کو اقتدار میں لایا گیا ، اچھا ہوا کہ یہ اقتدار میں آیا، اس کی نا اہلی دنیا کے سامنے آگئی، اس کی نالائقی تشت ازبام ہوگئی، اہلیت کے لحاظ سے ننگا ہوگیا، آج پھر گاؤں، گاؤں پھر رہا ہے، جلسہ جلسہ کھیل رہا ہے، عمران خان پہلے کارکردگی کے حساب سے نا اہل ثابت ہوا، اب دماغی صحت کے لحاظ سے بھی بیمار ثابت ہو کر رہے گا۔

'نااہل، ذہنی مریض ہونے کے ساتھ یہ شخص فتنہ بھی ہے'
انہوں نے کہا کہ دنیا دیکھے گی کہ یہ ذہنی مریض، دماغی بیمار شخص پاکستان میں سیاست کر رہا ہے، اس کم بخت عمران خان کی وجہ سے پاکستان کی سیاست بدنام ہوگئی، اس کی قدر گرگئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں آپ سب کو متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ نااہل اور ذہنی بیمار ہونے کے ساتھ ساتھ یہ شخص ایک فتنہ بھی ہے، اس نے اپنے ایسے پیروکار پیدا کرلیے ہیں کہ اگر وہ اللہ ہونے کا دعویٰ کرے تو پھر بھی ان کے پیروکار کہیں گے کہ ہم اس کے ساتھ ہیں، خود کہتا ہےکہ اللہ نے جو پیغام پیغمبر تک پہنچایا، اس نے لوگوں تک پہنچایا، تم بھی میرا پیغام لوگوں تک پہنچاؤ۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کبھی خود کو اللہ کے ساتھ برابری دیتا ہے، کبھی پیغمبر کےساتھ برابری دیتا ہے اور اس کے پیروکار کہتے ہیں کہ اگر وہ نبوت کا دعویٰ کرے تو پھر بھی ہم اس کے ساتھ ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ کبھی کہتا ہے کہ اللہ نے پیغمبر کی تربیت کی، ان کو نبوت کے لیے بنایا، آج وہ میری بھی تربیت کر رہا ہے، اس سوچ اور فکر کا آدمی پاکستان میں سیاست کرے گا، اسے کہتے دجل، دجال بھی جب دنیا میں آئےگا تو اس کے ماتھے پر کافر لکھے ہوگا، وہ کرامات بھی دکھائے گا لیکن وہ دجال اور فتنہ ہوگا، ہم بلاوجہ اس کے خلاف نہیں ہوئے، ہم فتنے کا خاتمہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں ان کے جلسوں اور ان کے پیروکاروں سے ڈرنا نہیں چاہیے، لوگوں کو کہتا ہے کہ عمرے پر کیوں گئے، میرے ساتھ میرے جلسوں میں کھڑا ہونا چاہیے تھا، ناچ گانوں کی محفل میں تمہیں کھڑا ہونا چاہیے تھا، عمرے پر جانے کی کیا ضرورت تھی۔

'جب سپہ سالار نے آنکھیں دکھائیں تو کہا میر جعفر شہباز شریف کو کہا تھا'
ان کا کہنا تھا کہ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ ان کی پارٹی کے جو رہنما کبھی زندگی میں مدینہ منورہ نہیں گئے، وہ ان دنوں وہاں کیا کرنے گئے جبکہ وزیراعظم شہباز شریف اور ان کا وفد وہاں تھا، شیخ رشید نے ایک روز قبل کہہ دیا تھا کہ مدینے میں ایسا ہوگا، انہوں نے حرم نبوی کی توہین کرنے کی پلاننگ کی، پاکستان میں تو ہم نے ان کی حکومت کو اٹھا کر پھینک دیا، اب باہر جاکر بد معاشیاں کرتے ہو، یہاں آکر مقابلہ کرو، ہم تمہیں تمہاری اوقات یاد دلائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کبھی فوج کو ڈراتے ہیں، کبھی کہتا ہے کہ میرے خلاف بیرونی سازش کے تحت خط آیا ہے، آج تک وہ خط نہیں دکھا سکا، قومی سلامتی کے ادارے نےبھی کہا کہ جھوٹ ہے، امریکا نے بھی کہا کہ جھوٹ ہے، جب ہم نےمطالبہ کیا کہ بلے کو تھیلے سے باہر لاؤ، ہمیں خط دکھاؤ تو اس بیانیے سے بھاگ گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد کہتا ہےکہ سراج الدولہ کا سپہ سالار میر جعفر تھا، میں پوچھتا ہوں کہ جب یہ سپہ سالار کو میر جعفر کہتا ہے تو آج سپہ سالار کون ہے، جب اس بیان پر سپہ سالار نے آنکھیں دکھائیں تو اگلے روز کہا کہ میری مراد تو شہباز شریف ہے، شہباز شریف تو سپہ سالار نہیں ہے، عمران خان تم نے سپہ سالار کی بات کی تھی، پھر بات آئی گئی ہوگئی، خط کے بعد وہ دوسرا بیانیہ بھی گیا۔
مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ عمران خان اب تیسرا بیانیہ لے آیا ہے کہتا ہے کہ میرے قتل کی سازش ہورہی ہے، میں اپنے بیان کی کیسٹ ریکارڈ کرادی ہے، کہتاہے کہ اس کی ایک کاپی امریکا میں ہے اور دوسری کاپی گولڈ اسمتھ کے گھر برطانیہ میں ہے۔
انہوں نے عمران خان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف وہ کہتے ہیں کہ امریکا نے میرے خلاف سازش کی اور دوسری طرف اپنا بیان بھی وہیں ریکارڈ کراتے ہیں، اگر وہ چورن بیچ رہے ہیں تو طریقے سے بیچیں۔
مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ سیاست کا کوئی طریقہ اور ڈھنگ ہوتا ہے مگر ان کو سیاست کرنی نہیں آتی، جب یہ حکومت میں نہیں آئے تھے تو کہتے تھے کہ کشمیر کو 3 حصوں میں تقسیم ہونا چاہیے، پھر جب اقتدار میں آیا تو کشمیر کو 3حصوں میں تقسیم کرکے ایک حصہ نریندر مودی کو دے دیا، ایک خود رکھ لیا اور گلگت بلتستان کو الگ کردیا۔

'عمران خان کے ذریعے سے ملک میں معاشی عدم استحکام لایا گیا'
عمران خان کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کونسی وحی ان کے اوپر آئی جب وہ یہ بیان دیتے ہیں کہ فوج نہ ہوتی تو پاکستان 3 حصوں میں تقسیم ہوچکا ہوتا، میں پوچھتا ہوں کے عمران خان کے پاس 3حصوں کی تقسیم کا نظریہ کہاں سے آیا، ان کا کیا پروگرام تھا۔
ان کا کہناتھا کہ ملک کے جغرافیے کو تبدیل کرنے کے 2 بنیادی مراحل ہوتے ہیں، پہلا مرحلہ ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کیا جائے، دورا مرحلہ ملک میں معاشی عدم استحکام پیدا کیا جائے، چناچہ، نواز شریف کی حکومت میں پاناما اسکینڈل لا کر اس کیس کے ذریعے سے ملک میں سیاسی عدم استحکام لانے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جب وہ مرحلہ گزر گیا تو پھر عمران خان کے ذریعے سے ملک میں معاشی عدم استحکام لایا گیا تو اس طرح سے یہ دونوں مرحلے پورے ہوگئے۔

'اقتدار سے علیحدگی کے بعد عمران خان دربدر پھر رہا ہے'
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ جب ملک میں معاشی عدم استحکام آتا ہے، روپیہ اپنی قدر کھودیتا ہے، مہنگائی آسمان کو پہنچ جاتی ہے، عام آدمی کی قوت خرید ختم ہوجاتی ہے تو پھر عوام میں بغاوتیں شروع ہوجاتی ہیں۔
انہوں نے کہا پاکستان کے سیاستدانوں اور جے یو آئی کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ ہم نے 4 سال تک تمام سیاسی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر رکھا، چاروں صوبوں کے عوام کو ایک پلیٹ فارم پر رکھا اور پاکستان کے کسی حصے میں ملک کے خلاف بغاوت نہیں ہونے دی، میں پاکستان کے عوام کو سلام کرتا ہوں ، ملک کے ساتھ ان کی وفاداری کو سلام کرتا ہوں کہ ان حالات میں بھی وہ ملک کے ساتھ کھڑے رہے اور بغاوت کا کوئی تاثر نہیں دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اقتدار سے علیحدگی کے بعد عمران خان دربدر پھر رہا ہے، اس لیے تاکہ کسی طرح پھر اقتدار میں آئے اور اگر ملک بچ گیا ہے تو اس کا مکمل خاتمہ کردے، اب یہ عوام کی مرضی ہے کہ اگر اس کو دوبارہ لاتے ہیں مگر ہم نے اس ملک کی بقا کے لیے جنگ لڑنے کا عہد کیا ہوا ہے اور اسے پورا کریں گے۔

'فوج نے کہا ہم نیوٹرل ہیں تو عمران نے کہا نیوٹرل تو جانور ہوتا ہے'
مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ میں پاک افواج کو بھی یقین و اعتماد دلاتا ہوں کہ اگر پاکستان کی سرحدوں پر یا اس کے اندر مشکل آئی تو ہم آپ کے ساتھ شانہ بشانہ پاکستان کی بقا و تحفظ کی جنگ لڑیں گے جبکہ ایک یوتھیا بھی آپ کو اپنے ساتھ نظر نہیں آئے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ تھا کہ فوج سیاست میں مداخلت نہ کرے اور جب فوج نے کہا کہ ہم نیوٹرل ہیں، ہم مداخلت نہیں کرتے تو اس نے کہا کہ نیوٹرل تو جانور ہوتا ہے، عمران خان کا مطلب یہ ہے کہ اگر فوج اس کے اور اس کی حکومت کے ساتھ ہے تو فوج محترم ہے لیکن اگر فوج ملک کے ساتھ ہے تو یہ اسے قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ کچھ روز قبل پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے کہا کہ اگر گھر پر ڈاکا پڑے اور چوکیدار کہے کہ میں نیوٹرل ہوں تو یہ ہمیں قبول نہیں ہے، میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ یہ چوکیدار ملک کے چوکیدار ہیں، تمہاری حکومت کے چوکیدار نہیں ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ حکومت کا دار و مدار پاکستان کے عوام پر ہے اور تمہیں پارلیمنٹ نے مسترد کیا ہے، پاکستان کے عوام کے نمائندوں نے مسترد کیا ہے تو تمہیں شکوہ کس سے ہے، عمران خان کی حکومت عوام، عوامی نمائندوں، اتحادیوں، اسٹیبلشمنٹ، فوج اور بیووکریسی سمیت کسی کا اعتماد برقرار نہیں رکھ سکی۔
ان کا کہنا تھا میں اس موقع پر بڑے احترام کے ساتھ اپنی محترم عدالت عظمیٰ اور فاضل ججز سے ایک شکوہ کرنا چاہتا ہوں کہ جب چیف ایگزیکٹو نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ایف آئی اے کے افسران کو تبدیل کیا تو ججز نے سوموٹو نوٹس کیوں لیا، کس کے کہنے پر لیا، عمران خان کی جلسے کی گفتگو پر آپ نے اتنا بڑا اقدام کرتے ہوئے سوموٹو نوٹس لے لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پھر آپ آئیں، حکومت کریں، آپ چیف ایگزیکٹو بن جائیں، عدلیہ کا اپنا کام ہے اور ایگزیکٹو کا اپنا کام ہے، کیا ججز ان لوگوں سے ڈرگئے کہ وہ آپ کے سامنے آکر کھڑے ہوجائیں گے، اگر یہ مخلوق عدالت کے سامنے کھڑی ہوئی تو پھر کیا کریں گے۔
مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ عدالت آزادی کے ساتھ فیصلے کرے، عدالت کے کسی سوموٹو سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ دباؤ میں کیا گیا ہے تو پھر اس کے نتیجے میں آںے والے فیصلے کی عوام کے دلوں میں کیا قدرو قیمت ہوگی۔

'ملک کو صحیح رخ پر لانا قومی سطح کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں'
انہوں نے کہا کہ عجیب بات یہ ہے کہ جب عمران خان کی حکومت میں پانامہ کیس میں نواز شریف کے خلاف فیصلہ دینے والا ڈی جی ایف آئی اے بنا دیا جاتا ہے تو وہاں کوئی سوموٹو نوٹس نہیں لیا گیا، جب بشیرمیمن نے عمران خان پر الزامات لگائے تو اس کی چیخ و پکار پر تو کوئی نوٹس نہیں لیا گیا، جسٹس صدیقی بطور جج چیخ رہا ہے اس پر تو آپ نے کوئی نوٹس نہیں لیا، آج جلسے میں ایک بیان دیا گیا تو نوٹس لے لیا گیا۔
مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ہمارے دلوں میں ججز کی بڑی قدو منزلت ہے، ان کے فیصلوں کو قدر کی نظر سے دیکھتے ہیں، ہماری نظروں میں بڑی عزت و آبرو ہے لیکن اگر ایسے اقدامات آپ اپنی طرف سے کرتے ہیں جبکہ کوئی شخص آپ سے رجوع بھی نہیں کرتا تو اس طرح سے جو اپنی عزت و توقیر میں آپ کمی کر رہے ہیں اس کے آپ خود ذمےدار ہیں، ہم نہیں، یہ شکایت عوام کے سامنے لانا میں نے ضروری سمجھا۔
ان کا کہنا تھا کہ مشکل یہ نہیں کہ عمران خان نے ملک کو بیٹھا دیا، چیلنج یہ ہے کہ اس کو اٹھانا کیسے ہے، جب تک کاروباری حضرات، بیوروکریسی کا اعتماد بحال نہیں کریں گے، جب تک حکومت کو ریاستی اداروں کا تعاون حاصل نہیں ہوگا اس وقت تک اعتماد کا ماحول بحال کرنا مشکل ہے، ابھی ہم نے عمران خان کو ہٹایا ہے، ایک سال میں ملک کو پٹری پر ڈالنا ہے، کیسے ملک کو واپس ٹریک پر لانا ہے یہ آسان کام نہیں، ایک چیلنج ہے۔
انہوں نے کہا کہ ساڑھے تین سال میں انہوں نے ملک کا کباڑہ کیا، عمارت گرانا، گند پھیلانا ایک لمحے کا کام ہے، 4 سال میں جو گند پھیلا، اس کو 4 دن میں صاف گرنے کی توقع رکھتے ہو، اس میں وقت لگے گا، یہ تو چیلنج ہے جو ہم نے قبول کیا ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ہم نے ملک کی بچانے کے لیے ان سے چھینا، اب ملک کی اقتصادیات کو بچانا ہے، اس کو صحیح رخ پر لانا ہے جو قومی سطح کے باہمی تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔

'اشرافیہ کے گھروں میں آنٹیاں عمران کے جانے پر آنسو بہا رہی ہیں'
انہوں نے کہا کہ نواز شریف چور، آصف زرداری چور، شہباز شریف چور چور کا شور مچایا جاتا ہے جبکہ دنیا کے تمام ممالک ان کو پیسے دینے کے لیے تیار ہیں، دوسری جانب وہ صادق و امین بنا ہوا ہے جس پر دنیا کا کوئی ملک، نہ مشرق نہ مغرب کوئی اعتماد کرنے کو تیار نہیں اور تماشہ یہ ہے کہ اس ملک میں چور چور کے نعرے لگائے جس ملک کے بادشاہ کی گھڑی کو اس نے خود چرایا، توشہ چور، اس طرح کی باتیں نہ کرو، تم تو ہر طرح سے کنگال ہو، گھر سے بھی کنگال، باہر سے بھی کنگال، ان کی نہ اخلاقی کوئی قیمت ہے نہ کوئی سیاسی قیمت ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ہم اتنا جانتے ہیں کہ ملک کے اندر ایک ایلیٹ کلاس ہے، ایک اشرافیہ ہے ان کے گھروں میں ان کی آنٹیاں آنسو بہا رہی ہیں عمران خان کے جانے پر، یہ آنسو نہیں ہیں، پتا چلتا ہے کہ کون کونسے خاندان اور گھرانے ہیں جو اس عالمی نیٹ ورک کے ساتھ وابستہ رہے ہیں اور آج ان کے گھر میں ماتم ہے، وہاں سے ہمیں پتا چلا ہے کہ کس کس کے صف ماتم بچھی ہے، مگر ہم اس فتنے کے مکمل خاتمے تک لڑیں گے اور چین سے نہیں بھٹیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری جماعت کا 200سال سےانگریزوں کےخلاف لہراتا لہراتا یہ پرچم آج پاکستان کے نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے اور اپنی منزل حاصل کرکے رہےگا۔