انٹر بینک میں ڈالر تمام ریکارڈز توڑ کر 200 روپے تک جا پہنچا

انٹر بینک میں ڈالر تمام ریکارڈز توڑ کر 200 روپے تک جا پہنچا
فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان (ایف اے پی) کے اعداد و شمار کے مطابق امریکی ڈالر انٹربینک میں کاروبار کے دوران 200 روپے کے چونکا دینے والے سنگ میل پر پہنچ گیا، جو گزشتہ روز 199 روپے پر بند ہونے کے بعد آج ایک روپے بڑھ گیا۔


ایف اے پی کے مطابق صبح 11 بجے کے قریب امریکی کرنسی 200 روپے تک پہنچ گئی تھی جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔
ایک روز قبل ڈالر کی قدر میں 2 روپے کا اضافہ ہوا اور سیشن کے اختتام پر 199 روپے پر بند ہوا تھا۔
فاریکس ایکسچینج پاکستان نے گزشتہ روز بند ہونے کی شرح 199 روپے پر ریکارڈ کی جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اختتامی شرح 198.39 روپے رہی جو 200 روپے کے سنگ میل کے قریب ہے۔
گزشتہ روز اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت پہلے ہی 200 روپے تک پہنچ چکی تھی۔

'سیاہ دن'
اس صورتحال نے کچھ ماہرین کو پریشان کر دیا ہے، آج کی شرح مبادلہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے، ایف اے پی کے سیکریٹری جنرل ظفر پراچہ نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ آج کا دن پاکستان کی تاریخ کا 'سیاہ ترین دن' ہے۔
ادھر ایف اے پی کے چیئرپرسن ملک بوستان نے ڈان ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) پر زور دیا کہ وہ درآمدات کو محدود کرنے کے لیے کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے قانونی ریگولیٹری احکامات جاری کرے۔
دریں اثنا چیس مین ہٹن کے سابق ٹریژری ہیڈ اسد رضوی نے میٹیس گلوبل کو بتایا کہ 'پنشن کی لاگت، گردشی قرض (25 کھرب روپے)، 12 کھرب روپے کے عوامی ادارے اور تقریباً 8 فیصد کا مالیاتی خسارہ پائیدار نہیں اور روپے پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس دوران'آزاد اسٹیٹ بینک' پاکستانی روپے کے بارے میں فکرمند نہیں اور شاید آئی ایم ایف مذاکرات کے نتائج کا انتظار کررہا ہے۔
حالیہ ہفتوں میں، تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے پہلے ہی ملک کے تیل کے درآمدی بلوں کو دگنا کر دیا ہے اور مجموعی درآمدات بھی ریکارڈ بلندی پر ہیں۔
اپریل میں درآمدات میں 72 فیصد اضافہ ہوا جس سے حکومت کے لیے بیرونی توازن کو بہتر کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔
مزید برآں مرکزی بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 10.3 ارب ڈالر کو چھو چکے ہیں، جو جون 2020 کے بعد سب سے کم ہیں۔
کرنسی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ غیر متوقع طور پر زیادہ درآمدی بل اور کم غیر ملکی سرمایہ کاری شرح مبادلہ کی حمایت میں نہیں جبکہ 13 ارب ڈالر سے زائد کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پہلے ہی حکومت کے لیے ایک چیلنج کے طور پر موجود تھا۔

آئی ایم ایف بیل آؤٹ کیلئے مذاکرات
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب پاکستانی حکام نے گزشتہ روز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کیے تھے، جس میں وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے دو باتوں پر غیر یقینی صورتحال کو دور کرنے کی کوشش کی تھی وہ یہ کہ نئی مخلوط حکومت اپنے عہدے پر برقرار رہے گی اور اصل فنڈ پروگرام اور مکمل ساختی معیارات میں سخت فیصلے کرے گی اور اصلاحات کا آغاز کرے گی۔
باخبر ذرائع نے بتایا کہ بات چیت ایک صحت مند نوٹ پر شروع ہوئی کیونکہ دونوں فریق ریاست کی معاشی فیصلہ سازی کو سیاست سے الگ کرتے ہوئے کلیدی اصولوں پر متفق نظر آئے۔
ان ذرائع نے بتایا کہ حکومت چند روز میں ایندھن اور توانائی کی قیمتوں پر نظرثانی کرے گی اور ڈیوٹی بڑھانے کے بجائے مجموعی طور پر 30 لگژری آئٹمز پر مکمل پابندی عائد کردے گی جن میں گاڑیاں اور موبائل فونز کے علاوہ کچھ دیگر غیر معمولی اشیا شامل ہیں۔
یہ اعلانات نظر ثانی شدہ پروگرام کی کامیابی سے تکمیل کے لیے بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے جلد ہی کیے جائیں گے۔