صوبائی قیادت سندھ کے حقوق کیلئے میدان میں!

صوبائی قیادت سندھ کے حقوق کیلئے میدان میں!
میں یہ کالم اس وقت لکھ رہا ہوں جب سندھ کی 11 سیاسی ،قوم پرست اور عوامی تنظیموں کی طرف سے بنائی گئی ’’سندھ ایکشن کمیٹی‘‘ کی طرف سے سندھ کے حقوق کے لیے حیدرآباد شہر میں ایک عوامی ریلی نکالی جارہی ہے، اس ایکشن کمیٹی میں 11 سیاسی، قوم پرست، عوامی تنظیمیں شامل ہیں۔ ان جماعتوں میں سندھ ترقی پسند پارٹی (سربراہ ڈاکٹر قادر مگسی)‘ سندھ یونائیٹڈ پارٹی (سربراہ جلال محمود شاہ)، عوامی تحریک جس کے بانی سربراہ رسول بخش پلیجو تھے اور اس وقت اس تنظیم کے سربراہ ڈاکٹر رسول بخش خاصخیلی ہیں، جمعیت علمائے اسلام ( جے یو آئی) جس کی سندھ میں رہنمائی علامہ راشد محمود کر رہے ہیں، عوامی جمہوری پارٹی کے شنو مل‘ جسقم آریسر گروپ کے اسلم خیرپوری، کمیونسٹ پارٹی کے بخشل تھلو، جسقم بشیر قریشی گروپ (سربراہ صنعان قریشی) اور سندھ عوامی پارٹی کے تاج مری شامل ہیں۔ جب میں یہ کالم لکھ رہا تھا اس وقت اطلاعات کے مطابق جلوس میں کافی کارکن ہاتھوں میں اپنی اپنی تنظیموں کے پرچم تھے اچھی خاصی تعداد میں جمع ہوچکے تھے اور سندھ کے ایشوز پر زور دار نعرے لگا رہے تھے،ان نعروں میں خاص طور پر یہ نعرہ ’’مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں‘‘ بہت عام تھا۔ واضح رہے کہ یہ نعرہ سندھ کے تالپور حکمرانوں اور انگریزوں کی حملہ آور فوج کے درمیان جنگ میں میروں کی فوج کے سپہ سالار ’’جنرل ہوشو شیدی‘‘ نے لگایا تھا، حقیقت یہ ہے کہ سندھ کے قومی حقوق پر کافی عرصے سے چاروں طرف سے یلغار ہورہی تھی، اس سے پہلے بھی اپنے کالم میں اس بات کا ذکر کرچکا ہوں کہ مجھے اکثر سندھ کے کئی علاقوں سے ٹیلی فون آئے تھے جو یا تو نوجوانوں کے تھے یا دانشوروں اور رائٹرز کے تھے،اکثر کا یہ سوال تھا کہ یہ سندھ کے حقوق پر اتنے جو حملے ہورہے ہیں تو سندھ کے سیاستدانوں اور دانشوروں کو جتنی زور دار آوازیں اٹھانا چاہئیں وہ کیوں نہیں اٹھ رہی ہیں۔ یہ باتیں کرتے وقت یہ لوگ خاص طور پر دو باتوں کا ذکر کرتے تھے،ایک تو یہ کہ کیا سندھ کے ساتھ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہورہا ہے کہ سندھ برصغیرمیں ہندوستان کا واحد صوبہ تھا جس کی اسمبلی نے سب سے پہلے پاکستان کے حق میں قرارداد منظور کرکے پاکستان کو ایک آئینی وجود فراہم کیا؟ یہ لوگ اکثر اس بات پر افسوس کرتے تھے کہ آج تک پاکستان کے کسی ادارے نے سندھ کو اس بات پر خراج تحسین پیش نہیں کیا کہ قائد اعظم سندھ کے سپوت تھے‘ ان کا جنم ضلع ٹھٹھہ کے علاقے جھرک میں ہوا تھا مگر اس بات کا ذکر کرتے ہوئے پتہ نہیں ہمارے ’’مہربانوں‘‘ کو کیوں شرم آتی ہے‘ حتیٰ کہ اگر کوئی اس بات کا ذکر کرتا ہے تو کہتا ہے کہ ’’بتایا جاتا ہے کہ قائد اعظم نے ضلع ٹھٹھہ کے علاقے جھرک میں جنم لیا تھا‘‘۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ ان کا انتقال جب انتہائی تکلیف دہ حالات میں ہوا، اس کا ذکر کوئی نہیں کرتا مگر آج تک پاکستان کی کسی حکومت نے تو کبھی ان حالات کی تحقیقات کا حکم نہیں دیا جن میں قائد اعظم کا انتقال ہوا مگر صد افسوس کہ سندھ کی کسی حکومت نے بھی اس کی تحقیقات کا حکم نہیں دیا۔ اس قسم کی بھی افواہیں ہیں کہ کئی بار اسلام آباد سے خصوصی ٹیمیں آئیں جن کو یہ ہدایات دی گئی تھیں کہ قائد اعظم جس پرائمری اسکول میں پڑھتے تھے اس میں سے ان کا نام کٹوا دیا جائے اور ساتھ ہی یہ بھی ہدایات تھیں کہ اس وقت جھرک کی مقامی بلدیاتی ادارے میں ان کی پیدائش کے سلسلے میں ان کا نام اور پیدائش کی جو تاریخ نوٹ کی گئی تھی وہ کٹوائی جائے تاکہ کسی کو یہ ثبوت نہ مل سکے کہ قائد اعظم کا جنم بھومی کون سا علاقہ تھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سندھ کی شکایات قائد اعظم کے انتقال سے شروع ہوتی ہیں مگر شکایات کے کئی رخ ہیں،درحقیقت قائد اعظم کے انتقال کے بعد کون سی زیادتی ہے جو سندھ کے ساتھ نہیں کی گئی اور سندھ کا کون سا حق ہے جو تسلیم کیا گیا؟ کیا کوئی اس بات سے انکار کرسکتا ہے کہ سندھ جس نے سب سے پہلے پاکستان کے حق میں اپنی اسمبلی سے قرارداد پاس کی وہ پاکستان کا تیسرا بڑا صوبہ اور مشرقی پاکستان کے الگ ہونے کے بعد باقی پاکستان کا دوسرا بڑا صوبہ تھا،اس حوالے سے سندھ کے جو حقوق بنتے تھے کیا وہ حقوق سندھ کو دیئے گئے؟ پاکستان بنتے ہی جو کابینہ بنی اس میں سندھ کے نمائندے کے طور پر کس کو وزیر بنایا گیا؟ ان حقائق کی کافی بڑی فہرست ہے جو ہم حقائق کے ساتھ ایک کے بعد دوسرے کالم میں پیش کریں گے پھر اچانک ون یونٹ بنایا گیا جس میں باقی سب صوبے پنجاب میں ضم کردیے گئے۔ اس طرح جو نیا صوبہ ویسٹ پاکستان وجود میں آیا اس نے اپنا کاروبار چلانے کے لیے رقوم کا بندوبست کیسے کیا؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ ویسٹ پاکستان کے گورنر نے یہ رقم سندھ کے خزانے سے نکال کر استعمال کی،کیا سندھ کو آج تک اس رقم کا حساب کتاب دیا گیا ہے؟ یہ سارا حساب کتاب سامنے لانا ہے